28 مئی 2013 - 19:30
شام مخالف دھڑوں میں اختلافات برقرار

حکومت شام کے مخالفين جنيوا دو اجلاس ميں شرکت کرنے يا نہ کرنے کے بارے ميں کسي فيصلے پر متفق نہيں ہوسکے ہيں۔

ابنا: ترکي کے شہر استبول ميں جمعرات سے جاري اجلاس کے دوران شام مخالف دھڑے اس بارے ميں کوئي فيصلہ  نہيں کرپائے کہ انہيں جنينو دو اجلاس ميں شرکت کرنا چاہئے يا نہيں۔ شام کي حکومت پہلے ہي جينيوا دو اجلاس ميں شرکت کے لئے اپني آمادگي کا اعلان کرچکي ہے۔
اس سے  قبل طے پايا تھا کہ ترکي کي ميزباني ميں ہونے والےتين روزہ اجلاس ميں شام مخالف دھڑے نئے وزيراعظم کے انتخاب اور عبوري حکومت کے ڈھانچے پر بحث کرنے کے ساتھ ساتھ جينيوا دو اجلاس ميں شرکت کرنے يا  نہ کرنے  کے بارے ميں کوئي فيصلہ کريں گے۔
استنبول اجلاس ميں شريک ايک شام مخالف اتحاد کے ايک رکن نے کہا ہے کہ مخالفين کے درميان اس بار ے ميں تاحال اتفاق رائے حاصل نہيں ہوسکا ہے- انہوں نے کہا کہ سعودي عرب شام مخالف اتحاد ميں تيس نئے ارکان کو  شامل کرنے پر زور دے رہا ہے تاکہ اس طرح شام کے  مخالفين ميں اخوان المسلمين کا اثرو رسوخ ختم کيا جائے۔
دوسري جانب فري سيرين  آرمي کے  قريبي ذرائع کا  کہنا ہے کہ  اصل مشکل يہ ہے کہ صرف سعودي عرب کو فيصلے کا اختيار ہے اور رياض صرف اپنے منظور نظر مسلح گروہوں کي حمايت کر رہا ہے- فري سيرين آرمي کے اس رکن نے مزيد  کہا کہ قطر اور ترکي اس بات کي کوشش کر رہے ہيں کہ شام کے  مخالفين کے اندر طاقت کا توازن محفوظ رہے اور اصل کردار اخوان المسلمين کو ديا جائے۔

.......

/169